منڈگوڈ، 15؍فروری (ایس او نیوز) ملازمتوں میں پروموشن کے لئے پسماندہ طبقات و قبائل کو ریزرویشن دینے کی ریاستی تجویز کے خلاف سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے۔ اس پر احتجاج کرتے ہوئے پسماندہ طبقات وقبائل کے ذمہ داروں نے وزیر اعلیٰ کے نام ایک میمورنڈم تحصیلدار کی معرفت پیش کیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں حکومت کی طرف سے اپیل دائر کی جائے۔
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے پسماندہ طبقات اور قبائل سے متعلقہ بہت سارے سرکاری افسران کا پروموشن خطرے میں پڑ گیا ہے اور ان پر اب ڈیموشن کی تلوار لٹکنے لگی ہے۔ اس لئے حکومت قانونی ماہرین سے اس ضمن میں صلاح و مشورہ کرے ۔اور ضرورت پڑنے پر دستور میں ترمیم کرنے کی وزیرا عظم سے درخواست کی جائے۔اس کے علاوہ پسماندہ طبقات و قبائل کے لئے مخصوص زمروں سے انتخاب جیتنے والے تما م اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمان کو چاہیے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔
اس موقع پر سمتا سینک دل کے صدر اشوک چلوادی، نائب صدر پرمیش دھارواڑ،تعلقہ صدر راگھویندرا ٹپال دار،سریش چلوادی،مئیلاری ہالگوروغیرہ موجود تھے۔